ہم کرسمس کیوں مناتے ہیں؟

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کرسمس نہ منانے کی بائبل میں کوئی وجہ نہیں ملتی۔ حقیقت یہ ہے کہ بائبل میں ہمیں مختلف مواقع پر خوشی منانے کی ہدایت ملتی ہے:

جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے، خدا نے عید منانے کا حکم دیا۔

مصر سے نکلنے اور خمیر نہ دینے پر عید فطیر منانے کا حکم دیا گیا۔

فصل کی خوشی میں ہفتوں کی عید منانے کا حکم دیا گیا۔

بنی اسرائیل کے خیموں میں رہنے کی وجہ سے خیموں کی عید منائی گئی۔

نئے سال کے آغاز میں نئے سال کی عید منائی گئی۔

اور اپنی تخلیق مکمل کرنے کے بعد، سبت منانے کا حکم دیا گیا۔

یہ سب مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ کسی خاص ایونٹ کی یاد میں خوشی منانا بالکل جائز ہے۔ تو اگر یہ بنی اسرائیل کے لیے تھا، تو سب سے بڑا ایونٹ—یعنی خدا کے بیٹے یسوع مسیح کا اس دنیا میں آنا—کی خوشی کیوں نہ منائی جائے؟

کرسمس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا خود انسان بن کر ہمارے درمیان آیا۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ تھا، جس کے لیے خوش ہونا اور خوشی منانا بالکل ضروری ہے۔ دنیا کی چھوٹی خوشیاں منانے میں جب ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، تو دنیا کی سب سے بڑی خوشی کیوں نہ منائیں؟

کرسمس ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم دنیا کو یسوع مسیح کے بارے میں اور اس کی معجزانہ پیدائش کے بارے میں بتا سکیں۔ جیسے چرواہوں نے خوشی منائی، فرشتوں نے خوشی منائی، مجوسیوں نے خوشی منائی—اسی طرح آج ہم بھی یسوع کی پیدائش کی یاد میں خوشی مناتے ہیں۔

اگرچہ بائبل میں کرسمس منانے کا واضح حکم نہیں ہے، لیکن خوش ہونے، رفاقت رکھنے اور شکر گزار ہونے کا حکم بہت واضح ہے۔ ہم یسوع کی آمد پر خوش ہوتے ہیں، اس کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں، اور شکر گزار بھی ہوتے ہیں کہ اس نے ہمارے لیے یہ سب کیا۔

ایک مثال دوں: پرانے عہد نامہ میں شادی کی دعوت دینے کا کہیں حکم موجود نہیں، لیکن یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سمیت اس خوشی میں شریک ہوئے۔ نئے عہد نامہ میں بھی خوشی منانے کی فہرست نہیں دی گئی، بلکہ اصول دیا گیا ہے کہ ہم ہر اس چیز کے لیے خوش ہو سکتے ہیں جو خدا کے نام کو عزت اور جلال دے، اور ہر اس ایونٹ یا کام کو منائیں جو خدا نے ہماری زندگی میں ہمارے لیے کیا۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خدا نے ہمارے لیے سب سے بڑا کام کیا—اپنی ذات کو انسان بنا کر ہماری نجات ممکن بنائی۔
آئیے سب مل کر اس عظیم محبت اور قربانی کو یاد کریں اور خوشی منائیں، کیونکہ یہ کرسمس کا اصل مقصد ہے!
ہم کرسمس کیوں مناتے ہیں؟🎄 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کرسمس نہ منانے کی بائبل میں کوئی وجہ نہیں ملتی۔ حقیقت یہ ہے کہ بائبل میں ہمیں مختلف مواقع پر خوشی منانے کی ہدایت ملتی ہے: جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے، خدا نے عید منانے کا حکم دیا۔ مصر سے نکلنے اور خمیر نہ دینے پر عید فطیر منانے کا حکم دیا گیا۔ فصل کی خوشی میں ہفتوں کی عید منانے کا حکم دیا گیا۔ بنی اسرائیل کے خیموں میں رہنے کی وجہ سے خیموں کی عید منائی گئی۔ نئے سال کے آغاز میں نئے سال کی عید منائی گئی۔ اور اپنی تخلیق مکمل کرنے کے بعد، سبت منانے کا حکم دیا گیا۔ یہ سب مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ کسی خاص ایونٹ کی یاد میں خوشی منانا بالکل جائز ہے۔ تو اگر یہ بنی اسرائیل کے لیے تھا، تو سب سے بڑا ایونٹ—یعنی خدا کے بیٹے یسوع مسیح کا اس دنیا میں آنا—کی خوشی کیوں نہ منائی جائے؟ کرسمس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا خود انسان بن کر ہمارے درمیان آیا۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ تھا، جس کے لیے خوش ہونا اور خوشی منانا بالکل ضروری ہے۔ دنیا کی چھوٹی خوشیاں منانے میں جب ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، تو دنیا کی سب سے بڑی خوشی کیوں نہ منائیں؟ 🎉 کرسمس ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم دنیا کو یسوع مسیح کے بارے میں اور اس کی معجزانہ پیدائش کے بارے میں بتا سکیں۔ جیسے چرواہوں نے خوشی منائی، فرشتوں نے خوشی منائی، مجوسیوں نے خوشی منائی—اسی طرح آج ہم بھی یسوع کی پیدائش کی یاد میں خوشی مناتے ہیں۔ ✨ اگرچہ بائبل میں کرسمس منانے کا واضح حکم نہیں ہے، لیکن خوش ہونے، رفاقت رکھنے اور شکر گزار ہونے کا حکم بہت واضح ہے۔ ہم یسوع کی آمد پر خوش ہوتے ہیں، اس کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں، اور شکر گزار بھی ہوتے ہیں کہ اس نے ہمارے لیے یہ سب کیا۔ 💖 ایک مثال دوں: پرانے عہد نامہ میں شادی کی دعوت دینے کا کہیں حکم موجود نہیں، لیکن یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سمیت اس خوشی میں شریک ہوئے۔ نئے عہد نامہ میں بھی خوشی منانے کی فہرست نہیں دی گئی، بلکہ اصول دیا گیا ہے کہ ہم ہر اس چیز کے لیے خوش ہو سکتے ہیں جو خدا کے نام کو عزت اور جلال دے، اور ہر اس ایونٹ یا کام کو منائیں جو خدا نے ہماری زندگی میں ہمارے لیے کیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خدا نے ہمارے لیے سب سے بڑا کام کیا—اپنی ذات کو انسان بنا کر ہماری نجات ممکن بنائی۔ آئیے سب مل کر اس عظیم محبت اور قربانی کو یاد کریں اور خوشی منائیں، کیونکہ یہ کرسمس کا اصل مقصد ہے! 🎁🙏
0 Comments 0 Shares 18 Views