جو مسیح میں ہیں، وہ کبھی نہیں مرتے
دنیا کہتی ہے: سب کچھ ختم ہو گیا۔
لیکن بائبل اعلان کرتی ہے:
جو مسیح میں ہیں، وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔
موت انجام نہیں۔
یہ انسان کی ہستی کو مٹا نہیں دیتی۔
یہ صرف جسم کو خاموش کرتی ہے،
روح کو نہیں۔
“خدا نے انسان کے دل میں ابدیت رکھ دی ہے”
(واعظ 3:11)
یسوع مسیح نے موت کو آخری اختیار نہیں دیا۔
اُس نے صاف کہا:
“میں قیامت اور زندگی ہوں؛
جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ اگر مر بھی جائے تو جئے گا”
(یوحنا 11:25)
یہ وعدہ صرف مستقبل کا نہیں،
یہ ابھی سے زندگی دیتا ہے۔
خدا قبر کا نہیں، زندوں کا خدا ہے۔
یسوع فرماتے ہیں:
“وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے،
کیونکہ اُس کے نزدیک سب زندہ ہیں”
(لوقا 20:38)
جو ہمیں دفن ہوتے دکھائی دیتے ہیں،
وہ خدا کے حضور زندہ ہیں۔
ایماندار موت میں بھی بے اُمید نہیں ہوتا۔
کلام ہمیں یاد دلاتا ہے:
“ہم اُن لوگوں کی طرح غم نہیں کرتے
جن کے پاس اُمید نہیں”
(۱ تھسلنیکیوں 4:13)
آنکھیں نم ہوتی ہیں،
مگر دل خالی نہیں۔
مسیح میں مرنا نقصان نہیں، فائدہ ہے۔
پولس رسول اعلان کرتا ہے:
“میرے لیے جینا مسیح ہے اور مرنا فائدہ”
(فلپیوں 1:21)
یہ الفاظ صرف ایمان نہیں،
فتح کا اعلان ہیں۔
قیامت موت کی آخری شکست ہے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
“مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے”
(۱ کرنتھیوں 15:20)
“آخری دشمن جو فنا کیا جائے گا وہ موت ہے”
(۱ کرنتھیوں 15:26)
قبر عارضی ہے۔
فتح دائمی ہے۔
آخری اعلان
موت آخری لفظ نہیں۔
قبر آخری سچ نہیں۔
یسوع زندہ ہے۔
اور جو اُس میں ہیں،
وہ بھی زندہ ہیں۔
“خدا اُن کی آنکھوں سے ہر آنسو پونچھ دے گا،
اور پھر نہ موت رہے گی”
(مکاشفہ 21:4)
لہٰذا،
جو مسیح میں سو گئے
وہ مُردہ نہیں۔
وہ خدا میں زندہ ہیں۔
اور ہم سے جدا نہیں ہوئے،
وہ ہم سے آگے چلے گئے ہیں۔
آمین
دنیا کہتی ہے: سب کچھ ختم ہو گیا۔
لیکن بائبل اعلان کرتی ہے:
جو مسیح میں ہیں، وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔
موت انجام نہیں۔
یہ انسان کی ہستی کو مٹا نہیں دیتی۔
یہ صرف جسم کو خاموش کرتی ہے،
روح کو نہیں۔
“خدا نے انسان کے دل میں ابدیت رکھ دی ہے”
(واعظ 3:11)
یسوع مسیح نے موت کو آخری اختیار نہیں دیا۔
اُس نے صاف کہا:
“میں قیامت اور زندگی ہوں؛
جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ اگر مر بھی جائے تو جئے گا”
(یوحنا 11:25)
یہ وعدہ صرف مستقبل کا نہیں،
یہ ابھی سے زندگی دیتا ہے۔
خدا قبر کا نہیں، زندوں کا خدا ہے۔
یسوع فرماتے ہیں:
“وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے،
کیونکہ اُس کے نزدیک سب زندہ ہیں”
(لوقا 20:38)
جو ہمیں دفن ہوتے دکھائی دیتے ہیں،
وہ خدا کے حضور زندہ ہیں۔
ایماندار موت میں بھی بے اُمید نہیں ہوتا۔
کلام ہمیں یاد دلاتا ہے:
“ہم اُن لوگوں کی طرح غم نہیں کرتے
جن کے پاس اُمید نہیں”
(۱ تھسلنیکیوں 4:13)
آنکھیں نم ہوتی ہیں،
مگر دل خالی نہیں۔
مسیح میں مرنا نقصان نہیں، فائدہ ہے۔
پولس رسول اعلان کرتا ہے:
“میرے لیے جینا مسیح ہے اور مرنا فائدہ”
(فلپیوں 1:21)
یہ الفاظ صرف ایمان نہیں،
فتح کا اعلان ہیں۔
قیامت موت کی آخری شکست ہے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
“مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے”
(۱ کرنتھیوں 15:20)
“آخری دشمن جو فنا کیا جائے گا وہ موت ہے”
(۱ کرنتھیوں 15:26)
قبر عارضی ہے۔
فتح دائمی ہے۔
آخری اعلان
موت آخری لفظ نہیں۔
قبر آخری سچ نہیں۔
یسوع زندہ ہے۔
اور جو اُس میں ہیں،
وہ بھی زندہ ہیں۔
“خدا اُن کی آنکھوں سے ہر آنسو پونچھ دے گا،
اور پھر نہ موت رہے گی”
(مکاشفہ 21:4)
لہٰذا،
جو مسیح میں سو گئے
وہ مُردہ نہیں۔
وہ خدا میں زندہ ہیں۔
اور ہم سے جدا نہیں ہوئے،
وہ ہم سے آگے چلے گئے ہیں۔
آمین
✝️🔥 جو مسیح میں ہیں، وہ کبھی نہیں مرتے
دنیا کہتی ہے: سب کچھ ختم ہو گیا۔
لیکن بائبل اعلان کرتی ہے:
جو مسیح میں ہیں، وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔
موت انجام نہیں۔
یہ انسان کی ہستی کو مٹا نہیں دیتی۔
یہ صرف جسم کو خاموش کرتی ہے،
روح کو نہیں۔
📖 “خدا نے انسان کے دل میں ابدیت رکھ دی ہے”
(واعظ 3:11)
✝️ یسوع مسیح نے موت کو آخری اختیار نہیں دیا۔
اُس نے صاف کہا:
📖 “میں قیامت اور زندگی ہوں؛
جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ اگر مر بھی جائے تو جئے گا”
(یوحنا 11:25)
یہ وعدہ صرف مستقبل کا نہیں،
یہ ابھی سے زندگی دیتا ہے۔
✝️ خدا قبر کا نہیں، زندوں کا خدا ہے۔
یسوع فرماتے ہیں:
📖 “وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے،
کیونکہ اُس کے نزدیک سب زندہ ہیں”
(لوقا 20:38)
جو ہمیں دفن ہوتے دکھائی دیتے ہیں،
وہ خدا کے حضور زندہ ہیں۔
✝️ ایماندار موت میں بھی بے اُمید نہیں ہوتا۔
کلام ہمیں یاد دلاتا ہے:
📖 “ہم اُن لوگوں کی طرح غم نہیں کرتے
جن کے پاس اُمید نہیں”
(۱ تھسلنیکیوں 4:13)
آنکھیں نم ہوتی ہیں،
مگر دل خالی نہیں۔
✝️ مسیح میں مرنا نقصان نہیں، فائدہ ہے۔
پولس رسول اعلان کرتا ہے:
📖 “میرے لیے جینا مسیح ہے اور مرنا فائدہ”
(فلپیوں 1:21)
یہ الفاظ صرف ایمان نہیں،
فتح کا اعلان ہیں۔
✝️ قیامت موت کی آخری شکست ہے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
📖 “مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے”
(۱ کرنتھیوں 15:20)
📖 “آخری دشمن جو فنا کیا جائے گا وہ موت ہے”
(۱ کرنتھیوں 15:26)
قبر عارضی ہے۔
فتح دائمی ہے۔
✝️ آخری اعلان
موت آخری لفظ نہیں۔
قبر آخری سچ نہیں۔
یسوع زندہ ہے۔
اور جو اُس میں ہیں،
وہ بھی زندہ ہیں۔
📖 “خدا اُن کی آنکھوں سے ہر آنسو پونچھ دے گا،
اور پھر نہ موت رہے گی”
(مکاشفہ 21:4)
لہٰذا،
جو مسیح میں سو گئے
وہ مُردہ نہیں۔
وہ خدا میں زندہ ہیں۔
اور ہم سے جدا نہیں ہوئے،
وہ ہم سے آگے چلے گئے ہیں۔
آمین ✝️
0 Comments
0 Shares
20 Views